هفتہ واری دروس

اللہ تعالی کے ساتھ بد گمانی

خلاصہء درس - حديث نمبر :200

حديث :

عن أبي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم ان الله عز و جل قال : « انا عند ظن عبدي بي ان ظن بي خيرا فله وان ظن شرا فله». {صحيح مسلم:2877 صفة الجنة، سنن ابوداود:3113 الجنائز، مسند احمد3/315.}

ترجمہ :

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالی نے فرمایا : میرا بندہ میرے بارے میں جیسا گمان رکھتا ہے میں اسکے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرتا ہوں ، اگروہ میرے بارے میں اچھا گمان رکھتا ہے تو میرا معاملہ اسکے ساتھ ویسا ہی ہے اور اگروہ میرے بارے برا گمان رکھتا تو معاملہ اسکے ساتھ ویسے ہی ہے ۔ {مسند احمد اور صحیح ابن حبان}

تشریح :

باری تعالی کے ساتھ حسن ظن واجب اور سوئے ظن [براگمان] کفر اور حرام ہے قرآن مجید میں متعدد جگہ باری تعالی کے ساتھ سوئے ظن کو کافروں اور منافقوں کا عمل بتلایاگیا ہے اور اس پر انہیں خوف ناک اورر سوا کن عذاب کی دھمکی دی گئی ہے ، {ذَلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُوا فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ كَفَرُوا مِنَ النَّارِ} “یہ گمان تو کافروں کا ہے سو کافروں کے لئے خرابی ہے آگ کی” ۔ [ص : 27]

نیز فرمایا : {الظَّانِّينَ بِاللَّهِ ظَنَّ السَّوْءِ عَلَيْهِمْ دَائِرَةُ السَّوْءِ وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَلَعَنَهُمْ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَهَنَّمَ وَسَاءتْ مَصِيرًا} [الفتح :6]“جو اللہ تعالی کے بارے میں بد گمانیاں رکھنے والے ہیں در اصل بری گردش انھیں پر پڑےگی، اللہ ان سےناراض ہو اور ان پر لعنت کی اور انکے لئے دوزخ تیار کی اور وہ بہت بری لوٹنے کی جگہ ہے” ۔

زیر بحث حدیث میں بھی اللہ تعالی کے ساتھ حسن ظن رکھنے والوں کو بشارت اور برا گمان رکھنے والوں کیلئے دھمکی ہے کہ اگر کوئی شخص اللہ تعالی کے بارے میں اچھا گمان رکھتا ہے کہ اللہ تعالی اسکے اوپر رحم ضرور کریگا ، اسکی روزی میں برکت دیگا ، دشمن کے مقابلے میں اسے ہر گز رسوا نہ کریگا، دنیا وآخرت میں اسکی دستگیری کرے گا اور اسی کے ساتھ ساتھ بندہ اچھے عمل میں بھی کوشاں رہتا ہے تو اللہ تعالی اسکے اس ظن کو پورا کر دکھائے گا اور اگر اسکے بر عکس اللہ تعالی کے بارے میں برا گمان رکھا گیا کہ اللہ تعالی اسکی دعا قبول نہ کریگا ، اگر حصول رزق کیلئے وہ ناجائز طریقہ اختیار نہ کریگا تو اسے روزی نہ ملے گی اور اپنی مدد وتایید کے بارے میں وہ اللہ تعالی سے متعلق زبان حال یا مقال سے بد ظنی میں پڑا رہا ، اسکا دروزہ چھوڑ کر کمزور و ناتواں مخلوق کے در پر ڈیرہ ڈالا تو اللہ تعالی بھی اسکے ساتھ دنیا وآخرت میں ایسا ہی معاملہ کریگا ، ایک اور حدیث میں ارشاد نبوی ہے کہ اللہ تعالی فرماتا ہے : “میرا معاملہ میرے بندے کے ساتھ ویسے ہی رہتا ہے جیسا وہ میرے بارے میں گمان رکھتا ہے لہذا وہ میرے بارے میں جو گمان چاہے رکھ لے “[مسند احمد ، الطبرانی بروایت واثلہ]

ان تمام تاکیدات کے باوجود آج اللہ رحیم و کریم ، غفور ودود اور رب العالمین کی ضعیف مخلوق اسکے بارے میں بد گمانی کی شکار ہے ، حلانکہ بہت سے لوگوں کو یہ شعور بھی نہیں ہے کہ یہ کوئی بڑاجرم اور بھیانک غلطی ہے ، بلکہ مصیبت بر مصیبت یہ کہ بہت سے لوگ اپنی زبان سے تو اللہ تعالی کے بارے میں اچھے گمان کے دعویدار ہیں اور اسی بنیاد پر اس سے اچھی امیدیں باندھے ہوئے ہیں لیکن اپنے اعمال و کردار سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ اپنے مالک حقیقی اور مربی اصلی کے بارے میں بد ظنی کے شکار ہیں ، ذیل میں باری تعالی کےباے میں بدگمان کے چند مظاہرکا ذکر کیا جاتا ہے ۔

{1} شرک و کفر: مشرک اور کافر یہ سمجھتا ہے کہ اگر اپنے باطل معبود کو راضی نہ رکھیں گے ، انکے لئے اپنی عبادت کا کچھ حصہ خاص نہ کریں گے تو وہ اللہ تعالی سے ہماری سفارش نہ کریں گے اور جب تک وہ اللہ تعالی کےحضور ہمارے سفارشی نہ بنیں گے اللہ تعالی بھی ہماری مراد پوری نہ کرے گا ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم کو اسی غلط نظرئے اور عقیدے سے متنبہ کرتے ہوئے فرمایا :{أَئِفْكًا آلِهَةً دُونَ اللَّهِ تُرِيدُونَ فَمَا ظَنُّكُم بِرَبِّ الْعَالَمِينَ} [الصافات :86 ،87] “کیا تم اللہ تعالی کو چھوڑ کر جھوٹ موٹ گھڑے ہوئے معبود چاہتے ہو ، تو یہ تو بتلاو کہ رب العالمین کو تم نے کیا سمجھ رکھا ہے” ۔

{2} اپنی زندگی کے مقصد کو نہ سمجھنا: آج لوگوں کا ایک بہت بڑا طبقہ بلکہ کلمہ شھادت کا اقرار کرنے والا ایک بہٹ بڑا گروہ اپنی زندگی کے مقصد کو نہیں سمجھ رہا ہے اسکا خیال ہے کہ یہ آسمان و زمین اور دنیا کی گونا گو ں نعمتیں اللہ تعالی نے صرف اسی لئے پیدا کی ہے کہ ہم کھائیں پئیں ، اور موج کریں ۔ حلانکہ ارشاد باری تعالی ہے : { وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاء وَالأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَاطِلاً ذَلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُوا فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ كَفَرُوا مِنَ النَّار أَمْ نَجْعَلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ كَالْمُفْسِدِينَ فِي الأَرْضِ أَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِينَ كَالْفُجَّار }[ص :27 ، 28 ] “ہم نے آسمان و زمین اور انکے درمیان کی چیزوں کو ناحق پیدا نہیں کیا ، یہ گمان تو کافروں کا ہےسو کافروں کیلئے خرابی ہے آگ کی ، کیاہم ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل کئےانکے برابر کر دیں گے جو فساد مچائے رہے ، یا ہم پرہیز گاروں کو بد کاروں جیسا کردیں گے” ۔

{3} بد عملی اور ترک عمل : کچھ لوگ ایمان کے باوجود نیک عمل سے دور رہتے ہیں اور بہت سے لوگ گناہ پرگناہ کئے جاتے ہیں اور بڑی ہی دلیری اور لاپر واہی سے کہہ دیتے ہیں کہ اللہ تعالی غفور اور رحیم ہے ، حلانکہ جہاں اللہ تعالی غفور و رحیم ہے وہیں وہ شدید العقاب بھی ہے ، جہاں پر اللہ رحمان و رووف ہے وہیں قہار وجبار بھی ہے ۔ { نَبِّىءْ عِبَادِي أَنِّي أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ وَ أَنَّ عَذَابِي هُوَ الْعَذَابُ الأَلِيمَ} [ الحجر : 49 ، 50] “میرے بندوں کو بتلا دو کہ میں بہت بخشنے والا اور بڑ اہی مہر بان ہو ں اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی بتلا دو کہ میرا عذاب بھی نہایت ہی درد ناک ہے” ، نیز فرمایا :”کیا ان لوگوں کا جو برے کام کرتے ہیں یہ گمان ہے کہ ہم انھیں ان لوگوں جیسا کر دیں گے جو ایمان لائے اور نیک کام کئے کہ ان کا مرنا جینا یکساں ہے ، برا ہے وہ فیصلہ جو وہ کر رہے ہیں”. {الجاثیہ :21}

{4} وسیلہ اور دعا : بہت سے گمراہ فرقوں اور جاہلوں کا عقیدہ ہے کہ جسطرح دنیا کے کسی بادشاہ یا بڑی شخصیت تک پہنچنے کیلئے کسی کے وسیلہ یا سفارش کی ضرورت ہے ، اسی طرح اللہ تعالی تک پہنچنے کیلئے ولیوں اور بزرگوں کے وسیلہ لینا بھی بہت ضروری ہے ، یہ اللہ تعالی کے ساتھ بد ظنی اور اس پر ظلم ہے کہ اسے ظالم و جابر اور فاسق و فاجر بادشاہوں اور حاکموں کی صف میں لاکردیا گیا ۔

{5} روزی کے حرام ذرایع : جسکی روزی میں تنگی رہی اس نے یہ سمجھا کہ جب تک حرام ذریعہ رزق استعمال نہ کریں گے ہمیں روزی نہ ملے گے ، اگر ہم جھوٹ نہ بولے تو تجارت میں کامیاب نہ ہونگے، اگر سودی کاروبار نہ کیا تو ترقی نہ ہوگی وغیرہ ۔

ایک بار نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے پھر لوگوں کو آواز دی کہ ادھر آو ، لوگ آپ کے قریب آکر بیٹھ گئے تو آپ نے فرمایا : یہ اللہ رب العالمین کے رسول حضرت جبریل علیہ السلام ہیں ، انہوں نے ابھی ابھی میرے دل یہ پھوک ماری {یعنی وحی کی } کہ کوئی بھی جاندار اس وقت تک نہیں مرے گا جب تک کہ وہ اپنا رزق پورا نہ کرلے ، اگر چہ اسے رزق ملنے میں دیر ہو رہی ہے ، لہذا اللہ تعالی سے ڈرو اور روزی حاصل کرنے کا اچھا { جائز } طریقہ اختیار کرو اور کسی کی روزی پہنچنے میں تاخیر ہو رہی ہے تو اسے حاصل کرنے کیلئے ناجائز طریقہ نہ استعمال کرے اسلئے کہ اللہ تعالی کی دی ہوئی روزی اسکی طاعت ہی سے حاصل ہو سکتی ہے ۔ {مستد رک حاکم ، مسند بزار بروایت حذیفہ و ابن مسعود }

{6} خود کشی : روزی ، بیماری اور حالات سے تنگ آکر خوکشی کرنے کا معنی ہے کہ بندہ اپنی زبان حال یا مقال سے یہ کہہ رہا ہے کہ یہ زندگی جو اللہ تعالی نے مجھے دی ہے وہ میرے لئے اچھی نہیں ہے ، یا یہ حالات جسمیں اللہ تعالی نے مجھے رکھا ہے وہ میرے ساتھ زیادتی ہے لہذا اسے کسی بھی طرح ختم کردینا چا ہئے ، اللہ تعالی کے ساتھ بدگمانی ہی کا نتیجہ ہے کہ ایسے شخص سے متعلق حدیث قدسی میں اللہ تعالی فر ماتا ہے : “میرے بندے نے مجھ سے آگے بڑھنے کی کو شش کی لہذا میں اس پر جنت کو حرام کر دے رہا ہوں” ۔ {صحیح البخاری ، صحیح مسلم بروایت جند بن عبد اللہ } نیز فرمایا : “اے میرے بندے ! اپنے جس عضو کو تو نے اپنے ہاتھ سے بر باد کیا ہے میں اسے نہیں بنا وں گا”. { صحیح مسلم بروایت جابر }

{7} برتھ کنٹرول : جو یہ سمجھتا ہے کہ ہمارے لئے زیادہ بچے فقروفاقہ کا سبب بنیں گے اور میں سب کی پر ورش نہ کر سکوں گا ، یا لڑکیوں کی پیدائش ہمارے لئے خوش آئند نہیں ہے،جبکہ اللہ تعالی ہی پیدا کرنے والا ہے اور وہی روزی کا بھی ذمہ دار ہے ، { وَمَا مِن دَآبَّةٍ فِي الأَرْضِ إِلاَّ عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا } [ھود : 6] زمین پر چلنے والے جتنے جاندار ہیں سب کی روزیاں اللہ تعالی پر ہیں ۔ نیز فرمایا : {وَلاَ تَقْتُلُواْ أَوْلاَدَكُم مِّنْ إمْلاَقٍ نَّحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاهُمْ} [الانعام :151] “اور مفلسی کے ڈر سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو کیونکہ ہم ہی تمھیں رزق دیتے ہیں اور انکو بھی ہم ہی رزق دینگے” ۔

{8} کافروں کا مسلط : جو یہ گمان رکھتا ہے کہ اگر عصر حاضر میں مسلمان کا فروں کے ساتھ تعاون نہ کریں گے اور ہر ظلم وعدل میں انکا ساتھ نہ دینگے تو انھیں تباہ و برباد کر کے رکھ دیا جائے گا ، یہی گمان منافقین نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے بارے میں رکھا تھا تو اللہ تعالی نے فرمایا: { بَلْ ظَنَنتُمْ أَن لَّن يَنقَلِبَ الرَّسُولُ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَى أَهْلِيهِمْ أَبَدًا وَزُيِّنَ ذَلِكَ فِي قُلُوبِكُمْ وَظَنَنتُمْ ظَنَّ السَّوْءِ وَكُنتُمْ قَوْمًا بُورًا} {الفتح :12 }“بلکہ تم نے تو یہ گمان کر رکھا تھا کہ رسول {صلی اللہ علیہ وسلم }اور مسلمانوں کا اپنے گھروں کی طرف لوٹ آنا قطعا ناممکن ہے اور یہی خیال تمھارے دلوں میں رچ بس گیا اور تم نے برا گمان رکھا ، در اصل تم لوگ ہو بھی ہلاک ہونے والے” ۔

{9} کافروں کا طرز معاشرت : جو یہ سمجھتا ہے کہ عزت کافروں کے طرز معاشرت اپنانے اور انکے بتائے ہوئے نظام کو نافذ کرنے میں ہے خواہ لباس میں ہو یا زبان میں ،کھانے پینے میں ہو، خاندانی زندگی میں یا طرز حکومت وغیرہ میں ہو، حلانکہ اللہ تعالی فرماتا ہے : { وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لا يَعْلَمُونَ} { المنافقون :8} “اور عزت تو صرف اللہ تعالی ، اسکے رسول اور مومنوں کیلئے ہے لیکن یہ منافق جانتے نہیں” ۔

نیز فرمایا :{ الَّذِينَ يَتَّخِذُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاء مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ أَيَبْتَغُونَ عِندَهُمُ الْعِزَّةَ فَإِنَّ العِزَّةَ لِلّهِ جَمِيعًا} [النسا : 139] “جنکی یہ حالت ہے کہ مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو دشمن بناتے ہیں ، کیا انکے پاس عزت کی تلاش میں جاتے ہیں ، یاد رکھیں کہ عزت تو ساری اللہ تعالی کے قبضہ میں ہے” ۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرتا ہے اسکا شمار انھیں لوگوں میں ہے .[سنن ابو داود بروایت ابن عمر ]

{10} بخالت ، سود کا لین دین : جو شخص مال اسلئے نہیں خرچ کرتا کہ اسکا مال ختم ہو جائے گا ، بچوں کا مستقبل بنانے کیلئے ناجائز مال کماتا اور ناجائز زمین ہڑپ کرتا ہے ، بینک میں فیکس ڈبوزٹ یا بیمہ بچوں کے مستقبل کیلئے کرتا ہے ، یا یہ سمجھتا ہے کہ سود سے ہمیں تو فائدہ ہے وغیرہو یہ سارے لوگ اللہ تعالی کے بارے میں بدگمانی کے شکار ہیں ،ارشاد باری تعالی :{ وما آتيتم من ربا ليربو في أموال الناس فلا يربو عند الله وما آتيتم من زكاة تريدون وجه الله فأؤلئك هم المضعفون اللَّهُ الَّذِي خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ….} الآیہ [ الروم : 39 ،40 ]

تم جو سود میں دیتے ہو کہ لوگوں کے مال میں بڑھتا رہے وہ اللہ تعالی کے یہاں نہیں بڑھتا اور جو کچھ صدقہ و زکاۃ تم اللہ تعالی کی خوشنودی کیلئے دیتے ہو تو ایسے ہی لوگ اپنے مال کو دگنا چوگنا کر رہے ہیں ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : “اسے ہلال خرچ کرو اور عرش والے کی طرف سے کم ہونے کا خوف مت رکھو:. [ابو یعلی الطبرانی بروایت ابوہریرہ ]

اللہ تعالی کے ساتھ بدگمانی کے اس قسم کے اور بھی بہت سے مظاہر ہمارے درمیان موجود ہیں، ہر صاحب بصیرت تھوڑی سی توجہ سے یہ اندازہ لگا یا جاسکتا ہے کہ لوگ کس قدر اپنے خالق و مالک حقیقی کے بارے بد ظنی کے شکار ہیں لہذا ضرورت ہے کہ لوگوں کو ان سے متنبہ کیا جائے اور اس وصیت نبوی پر عمل کیا جائے جو آ پ نے اپنی وفات سے صرف تین دن قبل کی تھی کہ : تم میں سے کسی شخص کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ وہ اللہ عز وجل کے ساتھ اچھا گمان رکھتا ہو ، [صحیح مسلم بروایت جابر ] یہیں سے اس وصیت نبوی کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے ۔

وصلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ۔

زر الذهاب إلى الأعلى